تعریف مرض: یہ تکلیف دہ مرض نمونیہ کی ہی ہے۔ جو کہ بچوں میں ایک مخصوص شکل و ہیبت میں ظاہر ہوتا ہے۔ اسے پسلی چلنا بھی کہتے ہیں اور بچوں کا نمونیہ بھی اسی کا نام ہے۔ اس مرض
امراض اطفال


تعریف مرض: یہ تکلیف دہ مرض نمونیہ کی ہی ہے۔ جو کہ بچوں میں ایک مخصوص شکل و ہیبت میں ظاہر ہوتا ہے۔ اسے پسلی چلنا بھی کہتے ہیں اور بچوں کا نمونیہ بھی اسی کا نام ہے۔ اس مرض

برصغیر میں 11.4فیصد جبکہ پاکستان میں43فیصد افراد ضیق النفس (تنگیٔ تنفس) کے سبب جاں بلب نظر آتے ہیں۔ اس مرض میں کھانسی کے علاوہ شدید مضطرب کرنے والی حالت دم گھٹنا ایسی کیفیت(Fixation) پیدا ہو جاتی ہے۔ اکثر افراد کو

ابو بکر محمد بن زکریا رازی اپنے دور میں دنیا کا سب سے بڑا طبیب اور فلسفی تھا۔وہ853عیسوی میں ایران کے شہر رے میں پیدا ہوا۔ اس نے حنین ابن اسحاق کے ایک شاگرد سے طب، ریاضی، ہیئت، کیمیا، اور

کسی بھی طریق علاج کے لئے جہاں اس کی تعلیم و تدریس اور تحقیق کے لئے بنائے گئے اداروں اور ان کے معیار کی اہمیت و وقعت ہوتی ہے، وہی اس کی دوا سازی کی صنعت بھی، اس طریق علاج

دہی ساری دنیا میں مشہورومقبول اور رغبت سے کھایا جاتا ہے۔یہ دودھ کوابال کر اور ضامن(مایۂ شیر) لگا کربنایا جاتا ہے۔اس کے بہت سے فوائد اور استعمالات ہیں۔بہت سے افراد اسے اصلی حالت میں کھاتے ہیں تو یہ ترش محسوس

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:’’وہی ہے جس نے تمہارے لئے آسمان کی جانب سے پانی اتارا، اس میں سے ( کچھ) پینے کا ہے اوراسی میں سے(کچھ)شجر کاری کا ہے(جس سے نباتات ، سبزے اور چراگاہیں اگتی ہیں)جن

لیموں ایک ایسا پھل ہے جو گھروں میں بہت عام استعمال ہوتا ہے اس کے چھلکوں، عرق اور دیگر اجزاء میں متعدد طبی فوائد بھی پائے جاتے ہیں۔وٹامن سی سے بھرپور ہونے کے باعث اسے متعدد فوائد کا حامل مانا

صحت اللہ تعالیٰ کا حقیقتاً بہت بڑا تحفہ ہے اور قدرت نے جو حکمت و منصوبہ بندی انسان کو صحت مند رکھنے کے لیے کی اسی کا مظہر شاید یہ پوری کائنات ہے۔ ہمارے جسم میں ایسے ایسے نظام موجود

ننھے بچوں کے لیے غذائیت سے بھرپور خوراک ماں کا دودھ ہی ہوتا ہے اور یہ چیز بچے کی دماغ کی نشوونما، اس کے مدافعتی نظام ونظام ہضم کے لیے نہایت مفید ثابت ہوتی ہے۔ اب اس بات کے شواہد

عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ ہمارا دماغ افعال کے اعتبار سے تنزلی کا شکار ہونے لگتا ہے، ہم بھولنے لگتے ہیں اور بعض نوعیت کے مسائل حل کرنا ماضی جیسا آسان نہیں رہتا۔ اگرچہ بڑھاپے سے واپسی تو ممکن نہیں،